العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا أَمْطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ . قَالَ فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ فَقَالَ " وَمَا يُدْرِيكِ لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ هُودٍ {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ } " . الآيَةَ
الترجمة الإنجليزية
It was narrated that Hadrat 'Aishah said:“If the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saw a cloud that looked as if it was bringing rain, the color of his face would change, and he would go in and out and walk to and fro. Then, if it rained, he would feel relieved.” Hadrat 'Aishah mentioned to him what she had seen him do, and he said: “How do you know? Perhaps it would be as the people of Hud (upon him be peace) said: ‘Then, when they saw it as a dense cloud coming towards their valleys, they said: “This is a cloud bringing us rain!” Nay, but it is that (torment) which you were asking to be hastened.” [46:]
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب بادل کو دیکھتے تو ( تردد و پریشانی کی وجہ سے ) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی، حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہہوں نے دیکھا، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ تجھے کیا معلوم؟ ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا: «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به» تو جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسائے گا، ( نہیں اس میں پانی نہیں تھا ) بلکہ وہ چیز ( یعنی عذاب ) ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ( سورۃ الاحقاف: ۲۴ ) ۔
