العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمْ أَجِدْهُ وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ دَعَاهُ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ . قَالَ فَدَعَانِي لآكُلَ مَعَهُ . قَالَ وَصَنَعَ ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ . قَالَ فَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ . قَالَ فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ فَأُدْنِيهِ مِنْهُ فَلَمَّا طَعِمْنَا مِنْهُ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَوَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَقْسِمُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said:“Hadrat Umm Sulaim sent with me a basket of fresh dates for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), but I did not find him, as he had just gone out to a freed slave of his who had invited him and made food for him. I came to him and he was eating, and he called me to eat with him. He (the freed slave) had served him Tharid with meat and gourd, and he liked the gourd, so I started to collect the (pieces of) gourd and put them near him. When he had eaten he went back to him house and I put the basket (of dates) before him, and he started to eat them and share them, until he finished the last of them.”
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا بھیجا، جس میں تازہ کھجور تھے، میں نے آپ کو نہیں پایا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے ایک غلام کے پاس قریب میں تشریف لے گئے تھے، اس نے آپ کو دعوت دی تھی، اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا، آپ کھا رہے تھے کہ میں بھی جا پہنچا تو آپ نے مجھے بھی اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلایا، ( غلام نے ) گوشت اور کدو کا ثرید تیار کیا تھا، میں دیکھ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کدو بہت اچھا لگ رہا ہے، تو میں اس کو اکٹھا کر کے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھانے لگا، پھر جب ہم اس میں سے کھا چکے، تو آپ اپنے گھر واپس تشریف لائے، میں نے ( تازہ کھجور کا ) ٹوکرا آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھانے لگے اور آپ تقسیم بھی کرتے جاتے تھے، یہاں تک کہ اسے بالکل ختم کر دیا۔
