العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْغَوْثِ بْنِ حُصَيْنٍ، - رَجُلٌ مِنَ الْفُرْعِ - أَنَّهُ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ حِجَّةٍ كَانَتْ عَلَى أَبِيهِ مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " حُجَّ عَنْ أَبِيكَ " . وَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " وَكَذَلِكَ الصِّيَامُ فِي النَّذْرِ يُقْضَى عَنْهُ " .
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from Abu Ghawth bin Husain – a man from Furu’ – that he consulted the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) about a Hajj that his father owed, but he had died and had not gone for Hajj. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated:“Perform Hajj on behalf of your father.” And the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: “The same applies to fasting in fulfillment of a vow – it should be made up for.”
الترجمة الأردية
حضرت مقام فرع کے ایک شخص ابوالغوث بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ایسے حج کی ادائیگی کے بارے میں سوال کیا جو ان کے والد پر فرض تھا، اور وہ بغیر حج کیے مر گئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج کرو ، نیز آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: اسی طرح کا معاملہ نذر مانے ہوئے صیام کا بھی ہے کہ ان کی قضاء اس کی طرف سے کی جائے گی ۔
