العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ ثُمَّ صَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعْدُ فَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا . قَالَ حَمَّادٌ فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا قَالَ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said:“Hadrat Safiyyah was given to Dihyah Al-Kalbi (as his share of the war booty), then she was given to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) after that. He married her, and made her ransom (i.e., freedom from slavery) her dowry.” (Sahih)Hammad said: “Abdul-'Aziz said to Thabit: 'O Abu Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)! Did you ask Hadrat Anas what her bridal-money was?' He said: 'Her bridal-money was her freedom.' ”
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلے اُمّ المؤمنین صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آئیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ہو گئیں، تو آپ نے ان سے شادی کی، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا ۱؎۔ حماد کہتے ہیں کہ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا: اے ابومحمد! کیا آپ نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان ( صفیہ ) کا مہر کیا مقرر کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا تھا۔
