العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ مَاتَ رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ بِالْمَدِينَةِ وَأَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَنْ يُكَفِّنَهُ فِي قَمِيصِهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَفَّنَهُ فِي قَمِيصِهِ وَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him) said:“The leader of the hypocrites in Al- Madinah died, and left instructions that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) should offer the funeral prayer for him and shroud him in his shirt. He offered the funeral prayer for him and shrouded him in his shirt, and stood by his grave. Then Allah revealed the words: ‘And never pray (the funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave.” [9:]
الترجمة الأردية
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ منافقین کا سردار ( عبداللہ بن ابی ) مدینہ میں مر گیا، اس نے وصیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں، اور اس کو اپنی قمیص میں کفنائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اسے اپنے کرتے میں کفنایا، اور اس کی قبر پہ کھڑے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں، اور اس کی قبر پہ مت کھڑے ہوں۔
