العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ يَعْنِي مَا دُونَ الْفَاحِشَةِ فَلاَ أَدْرِي مَا بَلَغَ غَيْرَ أَنَّهُ دُونَ الزِّنَا فَأَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ {أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي هَذِهِ قَالَ " لِمَنْ أَخَذَ بِهَا " .
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud that a man did something with a woman that was less than adultery; I do not know how far it went, but it was less than adultery. He went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and told him about that. Then Allah revealed the words:“And perform the prayer, at the two ends of the day and in some hours of the night. Verily, the good deeds remove the evil deeds. That is a reminder for the mindful.” [11:114] He said: “O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), is this only for me?” He said: “It is for everyone who acts upon it.”
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا سے کم کچھ بدتہذیبی کر لی، میں نہیں جانتا کہ وہ اس معاملہ میں کہاں تک پہنچا، بہرحال معاملہ زناکاری تک نہیں پہنچا تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «أقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» دن کے دونوں حصوں ( صبح و شام ) میں اور رات کے کچھ حصہ میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں، اور یہ یاد کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے ( سورة هود: ۱۱۴ ) ، پھر اس شخص نے عرض کیا: کیا یہ حکم میرے لیے خاص ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر اس شخص کے لیے جو اس پر عمل کرے ۱؎۔
