العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ شَهِدَ عِيَاضٌ الأَشْعَرِيُّ عِيدًا بِالأَنْبَارِ فَقَالَ مَالِي لاَ أَرَاكُمْ تُقَلِّسُونَ كَمَا كَانَ يُقَلَّسُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
الترجمة الإنجليزية
It was narrated that ‘Amir said:“Iyad Al-Ash’ari was in Anbar at the time of ‘Eid, and he said: ‘Why is it that I do not see you engaged in Taqlis* as was done in the presence of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?’” *Taqlis means to indulge in celebrations on a festive occasion
الترجمة الأردية
عامر شعبی کہتے ہیں کہ عیاض اشعری نے شہر انبار میں عید کی اور کہا: کیا بات ہے کہ میں تم کو اس طرح دف بجاتے اور گاتے نہیں دیکھ رہا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بجایا، اور گایا جاتا تھا ۱؎۔
