العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سُئِلَ أَكَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَخْطُبُ قَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟ قَالَ أَوَمَا تَقْرَأُ {وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ غَرِيبٌ لاَ يُحَدِّثُ بِهِ إِلاَّ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَحْدَهُ .
الترجمة الإنجليزية
‘Alqamah narrated that Hadrat 'Abdullah was asked whether the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) used to deliver the sermon standing or sitting. He said:“Have you not read the Verse: ‘...and leave you (Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)) standing (while delivering the Friday sermon?” [62:)
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے یا کھڑے ہو کر؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم نے یہ آیت کریمہ نہیں پڑھی: «وتركوك قائما» جب ان لوگوں نے تجارت یا لہو و لعب دیکھا تو آپ کو کھڑا چھوڑ کر چل دیئے ( سورة الجمعة: 11 ) ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ فرماتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اس کو صرف ابن ابی شیبہ ہی نے بیان کرتے ہیں۔
