العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أناسُفْيَانُ، عَنْفِرَاسٍ، عَنْأَبِي صَالِحٍ، عَنْزَاذَانَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَدَعَا بِغُلامٍ لَهُ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ قَالَ: مَالِي مِنْ أَجْرِهِ مَا يَزِنُ هَذَا أَوْ مَا سَاوَى هَذَا، وَأَخَذَ شَيْئًا مِنَ الأَرْضِ بِيَدِهِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ ضَرَبَ عَبْدًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، أَوْ لَطَمَهُ، فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ".
الترجمة الإنجليزية
Narrated by Zadhan: I was sitting with Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) when he called a slave of his and set him free. Then he said: "I have no reward from this worth even the weight of this" — and he picked up something from the ground — "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'Whoever strikes his slave with a punishment he did not deserve, or slaps him, then the expiation for it is to set him free.'"
الترجمة الأردية
زاذان کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے اپنے ایک غلام کو بلا کر آزاد کر دیا، پھر فرمانے لگے: مجھے اس کو آزاد کرنے کا اتنا بھی ثواب نہیں ملا اور آپ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ زمین سے کوئی چیز اٹھائی، میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے غلام پر حد لگائی، جس کا اس نے ارتکاب نہیں کیا تھا یا اسے تھپڑ مارا، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 842]
