العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى،وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالا: ثناعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أناابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَنِيأَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ صَامِتِابْنِ أَخِي أَبِي هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَأَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَ الأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ:" أَنِكْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: تَدْرِي مَا الزِّنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ حَلالا، قَالَ: فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: أَيْنَ فُلانٌ وَفُلانٌ؟ فَقَالا: نَحْنُ ذَانِ، وَقَالَ السُّلَمِيُّ: ذَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: انْزِلا فَكُلا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ، فَقَالا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ، وَمَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكَلِ الْمَيْتَةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْغَمِسُ فِيهَا"، وَقَالَ السُّلَمِيُّ: يَنْقَمِصُ فِيهَا.
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him): The Aslami (Ma'iz) came to the Prophet of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) and testified against himself four times that he had been intimate with a woman unlawfully. Each time the Prophet turned away from him. On the fifth time, he turned to him and said: "Did you have intercourse with her?" He said: Yes. He asked: "Did it go in as a kohl stick goes into its container and as a bucket rope goes into a well?" He said: Yes. He asked: "Do you know what adultery is?" He said: Yes — I did with her unlawfully what a man does with his wife lawfully. He asked: "What do you want by this statement?" He said: I want you to purify me. So the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) ordered him to be stoned. Then the Prophet heard two of his Companions, one saying to the other: Look at this man — Allah concealed his sin, but his soul would not let him rest until he was stoned like a dog. The Prophet remained silent. Then after walking for a while, he passed by the carcass of a donkey with its legs sticking up. He said: "Where are so-and-so?" They said: Here we are, O Messenger of Allah. He said: "Get down and eat from this donkey's carcass." They said: O Prophet of Allah, may Allah forgive you — who would eat from this? He said: "What you said about your brother just now is worse than eating carrion. By the One in Whose Hand is my soul, he is now plunging in the rivers of Paradise."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز اسلمی نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہو کر چار مرتبہ اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے حرام طریقے سے ہم بستری کی ہے، آپ ہر مرتبہ اس سے چہرہ موڑ لیتے، پھر پانچویں دفعہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا آپ نے اس سے صحبت کی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: حتیٰ کہ تیری شرمگاہ اس کی شرمگاہ میں یوں داخل ہوگئی، جس طرح سلائی سرمہ دانی میں اور ڈول کی رسی کنویں میں چلی جاتی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: معلوم ہے کہ زنا کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! میں اس کے پاس حرام طریقے سے آیا ہوں، جس طرح آدمی اپنی بیوی کے پاس حلال طریقے سے آتا ہے۔ آپ نے فرمایا: اس قول (اقرار) سے کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیں۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا، تو اسے رجم کر دیا گیا۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے دو صحابہ کو سنا، جن میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا، اس (ماعز) کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی ستر پوشی کی تھی لیکن اس کے نفس نے اسے نہیں چھوڑا حتیٰ کہ کتے کی طرح سنگسار کیا گیا۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمخاموش رہے۔ پھر آپ تھوڑی دیر چلے حتیٰ کہ ایک مردار گدھے کے پاس سے گزرے، جس کی ٹانگ اٹھی ہوئی تھی، آپ نے فرمایا: فلاں اور فلاں کہاں ہیں؟ ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم حاضر ہیں۔ آپ نے فرمایا: نیچے اترو اور اس مردار گدھے کا گوشت کھاؤ۔ ان دونوں نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ آپ کو معاف فرمائے، اسے کون کھاتا ہے؟ فرمایا: تم نے ابھی ابھی اپنے بھائی کی جو ہتک کی ہے، وہ اس (مردار) کے کھانے سے بھی شدید تر ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ تو اب بھی جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 814]
