العربية (الأصل)
حَدَّثَنَاابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثناسُفْيَانُ، عَنِالزُّهْرِيُّ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَعُمَرُرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: إِنَّا لا نَجْدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ، أَلا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ وَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ الْحَمْلُ أَوِ الاعْتِرَافُ، أَلا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْرَجَمَ وَرَجَمْنَا مَعَهُ".
الترجمة الإنجليزية
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both): Umar (may Allah be pleased with him) said: "I fear that a long time will pass and someone will say: 'We do not find stoning in the Book of Allah,' and they will go astray by abandoning an obligation that Allah revealed. Indeed, stoning is a right upon whoever commits adultery after being married, when the evidence is established, or there is pregnancy, or a confession. Indeed, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) stoned, and we stoned after him."
الترجمة الأردية
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر زیادہ عرصہ گزر جائے تو کوئی کہنے والا یوں نہ کہنے لگے: ہم کتاب اللہ میں رجم کا حکم نہیں پاتے، چنانچہ وہ اللہ کے نازل کردہ فریضہ کا انکار کر کے گمراہ ہو جائے سن لیں! جو بھی شادی شدہ زنا کرے اور اس پر دلیل مل جائے، یا حمل ہو جائے، یا وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کرنا حق ہے، سن لیں! رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے رجم کیا ہے اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ رجم کیا ہے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 812]
