العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أناعَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْسِمَاكٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ، وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفُ مِنْ قُرَيْظَةَ، فَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ وُدِيَ بِمِائَةِ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلا مِنْ بَنِي النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ،فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ، فَقَالُوا: ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ، فَقَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42 قَالَ، فَالْقِسْطُ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، ثُمَّ نزلت أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50".
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: There were Qurayzah and al-Nadir (two Jewish tribes). Al-Nadir was more noble than Qurayzah. If a man from al-Nadir killed a man from Qurayzah, the blood money was one hundred wasqs of dates. But if a man from Qurayzah killed a man from al-Nadir, he was killed in retaliation. When the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was sent, a man from al-Nadir killed a man from Qurayzah, and they said: Hand him over so we may kill him. They said: Between us and you is the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). They came to him, and Allah the Exalted revealed: "And if you judge, judge between them with justice" [al-Ma'idah 5:42]. He said: Justice is a life for a life. Then the verse was revealed: "Do they then seek the judgment of the Days of Ignorance?" [al-Ma'idah 5:50].
الترجمة الأردية
سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں قریظہ اور نضیر (یہودیوں کے دو قبیلے) تھے، نضیر قریظہ سے زیادہ معزز تھے، جب کبھی نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا، تو سو وسق کھجور اس کا فدیہ دے دیا جاتا اور جب کبھی قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا، تو اسے اس (مقتول) کے بدلے میں قتل کر دیا جاتا، جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم مبعوث ہوئے، تو نضیر کے آدمی نے قریظہ کا آدمی قتل کر دیا، انہوں نے کہا: اسے ہمارے حوالے کرو، ہم اسے قتل کریں گے، انہوں (بنو نضیر) نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی کریم صلی الله علیہ وسلم فیصلہ ہیں، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی:﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾(المائدة: 42) (آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں، تو انصاف سے فیصلہ کریں) اور انصاف یہ ہے کہ جان کے بدلے جان، پھر یہ آیت نازل ہوئی:﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾(المائدة: 50) (کیا یہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟)[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 772]
