العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: ثناعَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ بْنَ الْغَسِيلِ، عَنْحَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْأَبِي أُسَيْدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ: الشَّوْطُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْلِسُوا هَهُنَا، فَدَخَلَ وَقَدْ أُتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ، فَأُنْزِلَتْ فِي بَيْتِ النَّخْلِ بَيْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ وَمَعَهَا دَايَةٌ حَاضِنَةٌ لَهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَبِي نَفْسَكِ لِي، قَالَتْ: وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ؟ قَالَ: فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ، فَقَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: قَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا أَبَا أُسَيْدٍ، اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا".
الترجمة الإنجليزية
Abu Usayd (may Allah be pleased with him) said: We went out with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) until we came to a garden called al-Shawt. We reached two gardens, and the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: "Sit here." He went inside, and the Jawniyyah had been brought and lodged in a date-palm house, the house of Umaymah bint al-Nu'man ibn Sharahil, with her nursemaid attending her. When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) entered upon her, he said: "Give yourself to me." She said: Does a queen give herself to a commoner? He extended his hand to place it upon her to calm her, and she said: I seek refuge in Allah from you. He said: "You have sought refuge with the One who grants refuge." Then he came out to us and said: "O Abu Usayd, clothe her with two garments and take her back to her family."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ نکلے اور ایک باغ کی طرف چلے، جس کا نام شوط تھا، ہم دو باغات کے پاس پہنچے، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: یہاں بیٹھ جائیں، خود اندر چلے گئے، جونیہ (عورت) کو لایا گیا اور اُمیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے کھجوروں کے گھر میں بٹھا دیا گیا، اس کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کرنے والی دائی بھی تھی، جب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماس کے پاس تشریف لے گئے، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: اپنا جسم مجھے ہبہ کر دیں۔ وہ کہنے لگی: ملکہ نے بھی کبھی رعیت کو اپنا جسم ہبہ کیا ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنا ہاتھ جھکایا، آپصلی اللہ علیہ وسلماس پر ہاتھ رکھ کر اسے سکون پہنچانا چاہتے تھے، تو اس نے کہا: میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: آپ نے بہت بڑی ذات کی پناہ حاصل کی ہے۔ پھر (باہر) ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ابو اسید! انہیں دو کپڑے دے دیں اور انہیں ان کے گھر پہنچا دیں۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 758]
