العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثنايَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أناهِشَامٌ، عَنْيَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لا صَاعَا تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلا دِرْهَمَانِ بِدِرْهَمٍ".
الترجمة الإنجليزية
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: We used to receive mixed dates as provisions during the time of the Messenger of Allah (peace be upon him), and we would sell two sa's for one. This was reported to the Messenger of Allah (peace be upon him), who said: "Not two sa's of dates for one, and not two dirhams for one dirham."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے دور میں ہمیں کھانے کے لیے گھٹیا کھجور دی جاتی تھی، تو ہم دو صاع دے کر (اچھی کھجور کا) ایک صاع لے لیا کرتے تھے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتک یہ بات پہنچی، تو فرمایا:”ایک صاع کے بدلے دو صاع (دینا) جائز نہیں، نہ ہی ایک درہم کے بدلے دو درہم جائز ہیں۔“[المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 653]
