العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّابْنَ وَهْبٍأَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِياللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّنَافِعًاحَدَّثَهُ، عَنِابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
الترجمة الإنجليزية
Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "When two men enter into a transaction, each of them has the option (to cancel) as long as they have not parted and are still together, or one of them gives the other the option. If one gives the other the option and they finalize the transaction on that basis, the sale is binding. Likewise, if they part after the sale and neither cancels it, the sale becomes binding."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جب دو آدمی خرید و فروخت کریں، تو جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں، انہیں (بیع توڑنے کا) اختیار باقی رہتا ہے، یہ اس صورت میں ہے کہ دونوں ایک ہی جگہ رہیں یا وہ ایک دوسرے کو (بیع توڑنے کا) اختیار دے دیں۔ اگر وہ ایک دوسرے کو اختیار دے دیں اور اس شرط پر بیع کریں، تو بیع منعقد ہو جائے گی۔ (اسی طرح) اگر بیع کرنے کے بعد دونوں الگ ہو جائیں اور کوئی بھی بیع سے انکار نہ کرے، تو بھی بیع لازم ہو جاتی ہے۔“[المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 618]
