العربية (الأصل)
حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثَنَايَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْبَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: ثَنِيأَبِي، عَنٍجَدِّي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي الأَرْبَعِينَ مِنَ الإِبِلِ بِنْتُ لَبُونٍ، لا تَفَرَّقَ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا بِهَا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنْعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ، عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا لا يَحِلُّ لآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ".
الترجمة الإنجليزية
Ali (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (peace be upon him): "There is no zakat on wealth until a full year has passed."
الترجمة الأردية
بہر بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: چالیس چرنے والے اونٹوں پر بنت لبون ہے، اونٹوں کو ان کی جگہ سے نہ ہٹائیں، جو حصول اجر کی نیت سے زکاة ادا کرتا ہے اسے اجر ملے گا، اور جو شخص زکاة نہیں دے گا ہم اس کی زکاة کے ساتھ آدھا مال بھی لے لیں گے، یہ ہمارے رب کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں اور ان صدقات میں سے آل محمدصلی اللہ علیہ وسلمکے لیے کچھ بھی جائز نہیں ہے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 341]
