العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَاأَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: ثَنَاحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْأَيُّوبَ، قَالَ: ثَنَاعَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ أَبُو يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: كُنَّا بِحَضْرَةِ مَاءٍ مَمَرِّ النَّاسِ فَكُنَّا نَسْأَلُهُمْ: مَا هَذَا الأَمْرُ؟ فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: انْطَلَقَأَبِيبِإِسْلامِ أَهْلِ حَوَائنا، قَالَ: فَأَقَامَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُقِيمَ، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ تَلَقَّيْنَاهُ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ، قَالَ: جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا وَكَذَا، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ كَذَا وَكَذَا، وَأَنْ تُصَلُّوا صَلاةَ كَذَا وَكَذَا فِي حِينِ كَذَا، وَصَلاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا،وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا، فَنَظَرَ أَهْلُ حَوَائنا، فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا أَكْثَرَ مِنِّي قُرْآنًا لِلَّذِي كُنْتُ أَحْفَظُ مِنَ الرُّكْبَانِ، قَالَ: فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ وَأَنَا ابْنُ سِتِّ سِنِينَ".
الترجمة الإنجليزية
Narrated Amr ibn Salamah Abu Yazid al-Jarmi (may Allah be pleased with him): We were settled by a water source on a road where people passed, and we would ask them: What is this matter (of Islam)? He mentioned part of the hadith, then said: My father went with the news of our community's Islam. He stayed with the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) as long as Allah willed. When he returned and drew near, we went out to meet him. When he saw us, he said: By Allah, I have come to you from the true Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). He said: He commands you to do such and such and forbids you from such and such, and that you pray such-and-such prayer at such-and-such time, and such-and-such prayer at such-and-such time. When the time for prayer comes, let one of you call the adhan, and let the one who has memorized the most Qur'an lead you. The people of our community looked and found no one who had memorized more Qur'an than me, because I used to memorize from the passing travelers. So they put me forward, and I used to lead them in prayer while I was six years old.
الترجمة الأردية
سیدنا ابو یزید جرمی عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگوں کی گزرگاہ پر موجود پانی کے پاس رہتے تھے، چنانچہ ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ یہ دین کیسا ہے؟ انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: میرے والد اپنے محلے کے لوگوں کی طرف سے اسلام کی معلومات لینے گئے، تو جب تک اللہ تعالی نے چاہا نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس رہے، پھر جب واپس آئے، تو ہم نے ان کا استقبال کیا۔ وہ ہمیں دیکھ کر کہنے لگے، اللہ کی قسم! میں ایک سچے رسول کے پاس سے آ رہا ہوں۔ پھر فرمایا: وہ آپ کو فلاں فلاں کاموں کا حکم دیتے ہیں اور فلاں فلاں کاموں سے روکتے ہیں، نیز یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں اور فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں، جب نماز کا وقت ہو، تو ایک آدمی اذان کہے، پھر وہ امامت کرائے، جو آپ میں سے قرآن زیادہ جانتا ہو، ہمارے محلے والوں نے غور کیا، تو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کسی کو نہ پایا، کیوں کہ میں قافلے والوں سے قرآن یاد کرتا رہتا تھا، چنانچہ انہوں نے مجھے آگے کھڑا کر دیا، میں چھ برس کی عمر میں انہیں نماز پڑھاتا رہا۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 309]
