العربية (الأصل)
حَدَّثَنَاابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَاسُفْيَانُ، عَنْأَبِي الزِّنَادِ، عَنِالأَعْرَجِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رِجَالا يُقِيمُونَ الصَّلاةَ ثُمَّ آمُرُ فِتْيَانِي فَيُخَالِفُونَ إِلَى قَوْمٍ لا يَأْتُونَهَا فَيُحَرِّقُونَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ، وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ".
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Hurairah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: "I had considered ordering men to establish the prayer, then commanding my young men to go to those who do not attend the congregational prayer and burn their houses down with bundles of firewood. If any one of them knew he would find a fat bone or two good sheep hooves, he would attend the Isha prayer."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں نے ارادہ کیا ہے کہ لوگوں کو حکم دے کر جماعت کھڑی کروا دوں، پھر میں اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ وہ ان لوگوں کے پاس جائیں، جو جماعت میں شامل نہیں ہوتے اور لکڑیوں کے گٹھوں سے ان کے گھر جلا دوں، اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ اسے موٹی تازی ہڈی یا دو عمده پائے ملیں گے، تو وہ عشا کی نماز میں بھی حاضر ہو جائے گا۔“[المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 304]
