العربية (الأصل)
حَدَّثَنَاابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثناسُفْيَانُ، عَنْعَمْرٍو، سَمِعَبَجَالَةَ، يَقُولُ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ:" اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مُحْرِمٍ مِنَ الْمَجُوسِ وَبَيْنَ حَرِيمِهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَصَنَعَ طَعَامًا وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ فَأَكَلُوا بِغَيْرِ زَمْزَمَةٍ، وَأُلْقَوْا وَقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ".
الترجمة الإنجليزية
Bajalah said: 'I was the secretary of Juz' ibn Mu'awiyah. A letter from Umar (may Allah be pleased with him) came to us a year before his death: Kill every sorcerer, separate every Magian who has married a mahram (close relative forbidden in marriage by the Book of Allah) from his wife. He prepared food and placed a sword on his thigh, and they (the Magians) ate without their usual murmuring incantation. They brought forth the load of one or two mules in silver. Umar had not taken the jizyah from the Magians until Abd al-Rahman ibn 'Awf (may Allah be pleased with him) testified that the Messenger of Allah (peace be upon him) had taken it from the Magians of Hajar.'
الترجمة الأردية
بجالہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں جزء بن معاویہ کا سیکرٹری تھا۔ سیدنا عمر رضی الله عنہ کی وفات سے ایک سال پہلے ہمارے پاس ان کا خط آیا (جس میں لکھا تھا): ہر جادوگر کو قتل کر دیں، ہر اس محرم عورت سے شادی کرنے والے مجوسی اور اس کی بیوی کو الگ الگ کر دیں جن (محرمات) کا ذکر کتاب الله میں ہے۔ انہوں نے کھانا پکایا اور اپنی ران پر تلوار رکھ لی، چنانچہ انہوں (مجوسیوں) نے گنگنائے بغیر کھانا کھایا، انہوں نے ایک یا دو خچروں کے بوجھ کے برابر چاندی ڈھیر کر دی۔ سیدنا عمر رضی الله عنہ مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے حتیٰ کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی الله عنہ نے گواہی دی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1105]
