العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثنامُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: ثناأَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: ثناعَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ، عَنْعَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِوَائِلِ بْنِ حُجْرٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ، قَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ هَذَا افْتَرَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِيدَانَ، فَقَالَ لَهُ: بَيِّنَتُكَ، قَالَ: لَيْسَ لِي، قَالَ: يَمِينُهُ، قَالَ: إِذًا يَذْهَبُ بِهَا، قَالَ: لَيْسَ لَكَ إِلا ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ يَحْلِفُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظُلْمًا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ".
الترجمة الإنجليزية
Wa'il ibn Hujr (may Allah be pleased with him) said: I was with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) when two men came disputing about a piece of land. One of them said: O Messenger of Allah, this man seized my land during the pre-Islamic period — and he was Imru' al-Qays ibn Abis al-Kindi, and his opponent was Rabi'ah ibn Idan. He said to him: Present your evidence. He said: I have none. He said: Then his oath. He said: Then he will take it away. He said: You have nothing but that. When the man stood up to swear, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: "Whoever seizes a piece of land unjustly will meet Allah on the Day of Resurrection while He is angry with him."
الترجمة الأردية
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس تھا کہ دو آدمی آپ کے پاس زمین کا جھگڑا لے کر آئے، ان میں سے ایک جس کا نام امرؤ القیس بن عابس کندی تھا، کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے زمانہ جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کا مد مقابل ربیعہ بن عیدان تھا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس سے پوچھا: آپ کے پاس دلیل ہے؟ اس نے کہا: نہیں! آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: پھر اس سے قسم لی جائے گی۔ وہ کہنے لگا: تو وہ زمین لے جائے گا، فرمایا: آپ کے پاس صرف یہی صورت ہے۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ قسم اٹھانے کے لیے کھڑا ہوا، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: جس نے زیادتی کرتے ہوئے کسی سے زمین چھین لی، قیامت والے دن وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اللہ اس سے ناراض ہو گا۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1004]
