العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ»
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from Abu Said al-Khudri (may Allah be well pleased with him) that the Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Beware of sitting in the paths." They said: 'O Messenger of Allah, we have no choice but to sit there and talk.' The Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "If you insist on sitting, then give the path its due right." They said: 'What is the due right of the path?' He stated: "Lowering the gaze, refraining from harm, returning greetings, commanding good, and forbidding evil."
الترجمة الأردية
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔" انہوں نے کہا: 'اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم وہاں بیٹھیں اور بات چیت کریں۔' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر تم بیٹھنے پر مصر ہو تو راستے کا حق ادا کرو۔" انہوں نے کہا: 'راستے کا حق کیا ہے؟' آپ نے فرمایا: "نظر نیچی رکھنا، تکلیف سے بچنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔"
