العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him) narrated that on the Day of Uhud, when the people retreated from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I saw Aishah bint Abi Bakr and Umm Sulaym, with their garments tucked up so that I could see their anklets on their legs, carrying water skins on their backs. They would pour water into the mouths of the people, then return to fill them again and come back to pour it into the mouths of the people.
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ احد کے دن جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پیچھے ہٹ گئے، میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم کو دیکھا، ان کے کپڑے سمیٹے ہوئے تھے یہاں تک کہ میں ان کی ٹانگوں پر ان کے پازیب دیکھ سکتا تھا، مشکیزے اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے۔ وہ لوگوں کے منہ میں پانی ڈالتیں، پھر واپس جاتیں انہیں بھرنے کے لیے اور پھر آتیں لوگوں کے منہ میں ڈالنے کے لیے۔
