العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حِجْرٍ السَّعْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالُوا جِئْنَاكَ لِنَسْأَلَكَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ مِنَّا وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا وَلَمْ يَجْمَعْهُمَا اللَّهُ حَتَّى مَاتَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا سُئِلْتُ عَنْ شَيْءٍ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ فَأْتُوا غَيْرِي فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ شَهْرًا ثُمَّ قَالُوا لَهُ فِي آخِرِ ذَلِكَ مَنْ نَسْأَلُ إِنْ لَمْ نَسْأَلْكَ وَأَنْتَ أُخَيَّةُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي هَذِهِ الْبَلْدَةِ وَلَا نَجْدُ غَيْرَكَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي إِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بَرِيءٌ أَرَى أَنْ يُفْرَضَ لَهَا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا وَلَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَذَلِكَ بِحَضْرَةِ نَاسٍ مِنْ أَشْجَعَ فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فَقَالَ «أَشْهَدُ أَنَّكَ قَضَيْتَ بِمِثْلِ الَّذِي قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ فَمَا رُئِيَ عَبْدُ اللَّهِ فَرِحَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ كَفَرْحِهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) was asked about a man who married a woman but died without consummating the marriage and without specifying a dowry. He said he had not been asked about anything more difficult since leaving the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). They kept coming to him for a month. Finally he said: "I shall give my opinion. If it is correct, it is from Allah; and if it is wrong, it is from me, and Allah and His Messenger are free of it. I am of the opinion that she be given a dowry equivalent to that of her peers — no less and no more — she receives the inheritance, and she must observe the waiting period of four months and ten days." This was in the presence of people from the Ashja' tribe, and a man called Ma'qil ibn Sinan al-Ashja'i stood up and said: "I bear witness that you have judged the same as the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) judged regarding a woman from among us called Birwa' bint Washiq." Abdullah was never seen to be as happy about anything after Islam as he was about this.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے عورت سے نکاح کیا اور رخصتی اور مہر مقرر کیے بغیر فوت ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑنے کے بعد مجھ سے اس سے مشکل سوال نہیں پوچھا گیا۔ لوگ ایک مہینے تک آتے رہے۔ آخر میں فرمایا: میں اپنی رائے سے بات کہوں گا — اگر ٹھیک ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلطی ہو تو میری طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں۔ میری رائے ہے کہ اسے اس کی ہم مثل عورتوں کا مہر دیا جائے — نہ کم نہ زیادہ — اسے میراث ملے اور اس پر چار ماہ دس دن کی عدت ہو۔ یہ قبیلہ اشجع کے لوگوں کی موجودگی میں تھا۔ ایک آدمی جسے معقل بن سنان اشجعی کہا جاتا تھا کھڑا ہوا اور عرض کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے وہی فیصلہ کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں فرمایا تھا۔ حضرت عبداللہ اسلام کے بعد کسی چیز سے اتنے خوش نہیں ہوئے جتنے اس بات سے ہوئے۔
