العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ عُكَاظُ وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقٌ كَانَتْ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ كَأَنَّهُمْ تَأَثَّمُوا أَنْ يَتَّجِرُوا فِي الْحَجِّ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَنَزَلَتْ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ} فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: Ukaz and Dhu al-Majaz were markets they had in the pre-Islamic period. When Allah brought Islam, they seemed to consider it sinful to engage in trade during Hajj. They asked the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him), and the verse was revealed: 'There is no blame upon you for seeking bounty from your Lord' during the seasons of Hajj.
الترجمة الأردية
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: عکاظ اور ذوالمجاز ان کے لیے زمانہ جاہلیت میں بازار تھے۔ جب اللہ نے اسلام لایا تو گویا انہوں نے حج میں تجارت کرنے کو گناہ سمجھا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا، تو یہ آیت نازل ہوئی: 'تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو' حج کے مواسم میں۔
