العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَلَمْ يُضَيِّفْنِي وَلَمْ يَقْرِنِي أَفَأَحْتَكِمُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «بَلِ اقْرِهِ»
الترجمة الإنجليزية
Muhammad ibn 'Abd al-Rahman al-Sami informed us, he said: Ahmad ibn 'Abdullah ibn Yunus narrated to us, he said: Sufyan al-Thawri narrated to us, from Abu Ishaq, from Abu al-Ahwas, from his father, who said: I said: O Messenger of Allah, I passed by a man who neither gave me hospitality nor received me. Shall I retaliate? The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: «Rather, receive him with hospitality.»
الترجمة الأردية
ہمیں محمد بن عبدالرحمٰن سامی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں احمد بن عبداللہ بن یونس نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان ثوری نے ابو اسحاق سے حدیث سنائی، وہ ابو احوص سے، وہ اپنے والد سے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! میں ایک شخص کے پاس سے گزرا تو اس نے نہ مجھے مہمان نوازی کی اور نہ میری خاطر داری کی۔ کیا میں بدلہ لوں؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «بلکہ تم اسے مہمان نوازی سے پیش آؤ۔»
