العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ «يَا عَائِشَةُ مَا فَعَلْتِ الذَّهَبُ» قَالَتْ قُلْتُ هِيَ عِنْدِي قَالَ «فَأْتِينِي بِهَا» وَهِيَ بَيْنَ السَّبْعَةِ وَالْخَمْسَةِ فَجِئْتُ فَوَضَعْتُهَا فِي كَفِّهِ ثُمَّ قَالَ «مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ أَنْفِقِيهَا»
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) who said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said during his final illness: 'O Aisha, what happened to the gold?' She said: 'It is with me.' He stated: 'Bring it to me.' It was between five and seven dinars. She brought it and placed it in his palm. Then he stated: 'What would Muhammad think of Allah if he met Allah while having this with him? Spend it!'
الترجمة الأردية
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آخری بیماری میں فرمایا: 'اے عائشہ! وہ سونا کہاں ہے؟' میں نے عرض کیا: میرے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 'لاؤ مجھے دو۔' وہ پانچ اور سات دینار کے درمیان تھا۔ میں لائی اور آپ کی ہتھیلی میں رکھ دیا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: 'محمد کا اللہ کے بارے میں کیا گمان ہوگا اگر وہ اللہ سے ملے اور یہ اس کے پاس ہو؟ اسے خرچ کر دو!'
