العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَسْوَد�� بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ فَقَالَ لِي أَبِي عَبْدِ اللَّهِ يَا جَابِرُ لَا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نُظَّارِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ فَبَيْنَا أَنَا فِي النَّظَّارِينَ إِذْ جَاءَ ابْنُ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي عَادَلَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ فَدَخَلَ بِهِمَا الْمَدِينَةَ لِيَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي «أَلَا إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى فَتَدْفِنُوهَا فِي مَصَارِعِهَا حَيْثُ قُتِلَتْ» قَالَ فَرَجَعْنَاهُمَا مَعَ الْقَتْلَى حَيْثُ قُتِلَتْ
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Jabir ibn Abdullah (may Allah be well pleased with them both) who said: The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) went out from Medina towards the polytheists to fight them. My father Abdullah said to me: 'O Jabir, it is not necessary for you to be anything but among the spectators of the people of Medina until you know what becomes of our affair. By Allah, were it not that I leave daughters behind me, I would have loved for you to be killed before me.' While I was among the spectators, my cousin came with my father and my maternal uncle, carrying them both on a camel. He entered Medina to bury them in our graveyard, when a man came calling out: 'Indeed, the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) commands you to return the slain and bury them where they fell.' So we returned them with the slain to where they fell.
الترجمة الأردية
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مشرکین سے لڑنے کے لیے مدینہ سے نکلے۔ میرے والد عبد اللہ نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم مدینہ والوں کے تماشائیوں میں رہو یہاں تک کہ معلوم ہو جائے کہ ہمارا معاملہ کیا ہوتا ہے۔ اللہ کی قسم! اگر میں اپنے بعد بیٹیاں نہ چھوڑتا تو مجھے پسند ہوتا کہ تم میرے سامنے شہید ہو جاؤ۔ میں تماشائیوں میں تھا کہ میرا چچا زاد بھائی میرے والد اور میرے ماموں کو ایک اونٹ پر لاد کر لایا۔ وہ مدینہ میں داخل ہوا تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کرے۔ اتنے میں ایک شخص آیا ندا دیتا ہوا: 'بے شک نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ شہداء کو واپس لے جاؤ اور ان کی جائے شہادت پر دفن کرو۔' پس ہم انہیں شہداء کے ساتھ ان کی جائے شہادت پر واپس لے گئے۔
