العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَقُلْتُ يَقْرَأُ مِائَةَ آيَةٍ ثُمَّ يَرْكَعُ فَمَضَى فَقُلْتُ يَخْتِمُهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَمَضَى فَقُلْتُ يَخْتِمُهَا ثُمَّ يَرْكَعُ فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ ثُمَّ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى لَا يَمُرُّ بِآيَةِ تَخْوِيفٍ أَوْ تَعْظِيمٍ إِلَّا ذَكَرَهُ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Hudhayfah (may Allah be well pleased with him) said: «I prayed with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) one night. He began Surah al-Baqarah, so I said (to myself): 'He will recite one hundred verses and then bow.' But he continued. I said: 'He will complete it in two rak'ahs.' But he continued. I said: 'He will complete it and then bow.' But he continued until he recited Surah an-Nisa', then Surah Al 'Imran, then he bowed for about as long as he had stood, saying: Glory be to my Lord, the Magnificent. Then he raised his head and said: Allah hears the one who praises Him. O Allah, our Lord, to You is all praise. He prolonged the standing, then prostrated and prolonged the prostration. Then he would say in his prostration: Glory be to my Lord, the Most High. He would not pass by a verse of warning or glorification except that he mentioned it.»
الترجمة الأردية
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی۔ آپ نے سورہ بقرہ شروع کی، تو میں نے (دل میں) کہا: 'آپ سو آیات پڑھیں گے اور پھر رکوع کریں گے۔' لیکن آپ آگے بڑھتے رہے۔ میں نے کہا: 'آپ اسے دو رکعتوں میں مکمل کریں گے۔' لیکن آپ آگے بڑھتے رہے۔ میں نے کہا: 'آپ اسے مکمل کریں گے اور پھر رکوع کریں گے۔' لیکن آپ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے سورہ نساء پڑھی، پھر سورہ آل عمران، پھر آپ نے تقریباً اتنی ہی دیر رکوع کیا جتنی دیر کھڑے رہے تھے، فرماتے ہوئے: سبحان ربی العظیم۔ پھر آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا: سمع اللہ لمن حمدہ، اللہم ربنا لک الحمد۔ آپ نے قیام کو طویل کیا، پھر سجدہ کیا اور سجدے کو طویل کیا۔ پھر آپ اپنے سجدے میں فرماتے: سبحان ربی الاعلی۔ آپ خوف یا تعظیم کی کسی آیت سے نہیں گزرتے مگر اسے یاد کرتے۔»
