العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ أَخْبَرَ ابْنُ عُمَرَ بِوَجَعِ امْرَأَتِهِ فِي السَّفَرِ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ فَقِيلَ الصَّلَاةَ فَسَكَتَ وَأَخَّرَهَا بَعْدَ ذَهَابِ الشَّفَقِ حَتَّى ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ثُمَّ قَالَ «هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَفْعَلُ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَوْ حَزَبَهُ أَمَرٌ»
الترجمة الإنجليزية
Nafi narrated: Ibn Umar was informed of his wife's illness during travel, so he delayed Maghrib. It was said: The prayer! But he remained silent and delayed it after the twilight disappeared until a portion of the night had passed. Then he dismounted and prayed Maghrib and Isha, then he stated: Thus the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) would do when travel pressed him or a matter occupied him.
الترجمة الأردية
نافع نے بیان کیا: ابن عمر کو سفر میں اپنی بیوی کی بیماری کی خبر دی گئی تو انہوں نے مغرب کی نماز مؤخر کر دی۔ کہا گیا: نماز! لیکن وہ خاموش رہے اور اسے شفق غائب ہونے کے بعد مؤخر کیا یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا۔ پھر اترے اور مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایسا کرتے تھے جب سفر ان پر سخت ہوتا یا کوئی معاملہ انہیں لگا رہتا۔
