العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ مَا غَدَا بِكَ؟ فَقُلْتُ ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَصْنَعُ» فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نَمْسَحَ ثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا وَيَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا وَلَا نَنْزِعُهُمَا مِنْ غَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا نَوْمٍ وَلَكِنْ مِنَ الْجَنَابَةِ»
الترجمة الإنجليزية
Zirr ibn Hubaysh narrated: I came to Hadrat Safwan ibn Assal (may Allah be well pleased with him) asking him about wiping over the leather socks. He said: What has brought you? I said: Seeking knowledge. He said: Indeed, I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: The angels lower their wings for the seeker of knowledge out of pleasure with what he does. Then I asked him about wiping over the leather socks, and he said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) commanded us to wipe for three days when traveling, and for a day and a night when resident, and not to remove them for defecation, urination, or sleep, but only for major ritual impurity.
الترجمة الأردية
زر بن حبیش سے روایت ہے کہ میں حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا: تمہیں کیا چیز لائی ہے؟ میں نے کہا: علم کی طلب۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: فرشتے طالبِ علم کے لیے اپنے بازو بچھاتے ہیں اس کے عمل سے خوش ہو کر۔ پھر میں نے ان سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ سفر میں تین دن اور حضر میں ایک دن ایک رات مسح کریں اور پاخانے، پیشاب یا نیند سے انہیں نہ اتاریں، لیکن جنابت میں اتار دیں۔
