العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَارِثِ الْعَقَبِيُّ بِبَغْدَادَ ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ثَنَا أَبُو عَامِرٍ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا حَلْقَةٌ كَأَنَّمَا قُطِعَتْ رُءُوسُهُمْ وَإِذَا فِيهِمْ رَجُلٌ يُحَدِّثُ فَإِذَا حُذَيْفَةُ قَالَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ كَيْمَا أَعْرِفَهُ فَأَتَّقِيَهُ وَعَلِمْتُ أَنَّ الْخَيْرَ لَا يَفُوتَنِي قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ «يَا حُذَيْفَةُ تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَاعْمَلْ بِمَا فِيهِ» فَأَعَدْتُ قُولِي عَلَيْهِ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ «فِتْنَةٌ وَاخْتِلَافٌ» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ «يَا حُذَيْفَةُ تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَاعْمَلْ بِمَا فِيهِ» فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ «فِتَنٌ عَلَى أَبْوَابِهَا دُعَاةٌ إِلَى النَّارِ فَلَأَنْ تَمُوتَ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبِعَ أَحَدًا مِنْهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ صحيح
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Hudhayfa (may Allah be well pleased with him) narrated: People used to ask the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about good, but I used to ask him about evil so that I might recognize it and avoid it, for I knew that good would not escape me. I submitted: "O Messenger of Allah, will there be any evil after this good that we are in?" He stated: "O Hudhayfa, learn the Book of Allah Most High and act upon what is in it." I repeated my question to him, and on the third time he stated: "Tribulation and disagreement." I submitted: "O Messenger of Allah, will there be any good after that evil?" He stated: "O Hudhayfa, learn the Book of Allah Most High and act upon what is in it." I submitted: "O Messenger of Allah, will there be any good after that evil?" He stated: "Tribulations at whose doors will be callers to the Fire. It would be better for you to die biting onto the stump of a tree than to follow any of them." This hadith has a sound chain of narration and they [al-Bukhari and Muslim] did not record it.
الترجمة الأردية
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں آپ سے شر کے بارے میں پوچھتا تھا تاکہ اسے پہچان کر بچ سکوں، اور مجھے معلوم تھا کہ خیر مجھ سے نہیں چھوٹے گی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اِس خیر کے بعد جس میں ہم ہیں کوئی شر آئے گا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: "اے حذیفہ! اللہ تعالیٰ کی کتاب سیکھو اور اُس پر عمل کرو۔" میں نے اپنا سوال دوبارہ کیا تو تیسری بار آپ نے فرمایا: "فتنہ اور اختلاف۔" میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اُس شر کے بعد کوئی خیر ہوگی؟ آپ نے ارشاد فرمایا: "اے حذیفہ! اللہ تعالیٰ کی کتاب سیکھو اور اُس پر عمل کرو۔" میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اُس شر کے بعد کوئی خیر ہوگی؟ آپ نے ارشاد فرمایا: "فتنے ہوں گے جن کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے ہوں گے۔ تمہارے لیے کسی درخت کے تنے کو دانتوں سے پکڑے ہوئے مر جانا اُن میں سے کسی کی پیروی کرنے سے بہتر ہے۔" یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
