العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى ثَنَا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِصْرَ «مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ ﷺ أَمَّا هُوَ فَكَانَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا وَأَمَّا أَنْتُمْ فَأَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Amr ibn al-As (may Allah be well pleased with him) was heard addressing the people in Egypt, saying: "How far is your way from the way of your Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)! As for him, he was the most ascetic of people regarding the world; and as for you, you are the most desirous of people for it."
الترجمة الأردية
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا گیا کہ وہ مصر میں لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے: «تمہارا طریقہ تمہارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے سے کتنا دور ہے! آپ لوگوں میں سب سے زیادہ دنیا سے بے رغبت تھے اور تم لوگوں میں سب سے زیادہ دنیا کے طالب ہو۔»
