العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا فَقَالَ «مَا لِي وَلِلدُّنْيَا وَمَا لِلدُّنْيَا وَمَا لِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي ��َوْمٍ صَائِفٍ فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍعلى شرط البخاري ومسلم
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrated: Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) entered upon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) while he was on a mat that had left marks on his side. He said: "O Messenger of Allah, if only you would take a softer bed than this." He stated: "What have I to do with the world, and what has the world to do with me? By the One in Whose hand is my soul, my likeness and that of the world is but like a rider who traveled on a hot day and rested under a tree for a time during the day, then departed and left it." This is a hadith whose chain of transmission is authentic according to the condition of al-Bukhari, though neither [al-Bukhari nor Muslim] recorded it. Its supporting narration is the hadith of Abdullah ibn Mas'ud. According to the condition of al-Bukhari and Muslim.
الترجمة الأردية
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کے نشان آپ کے پہلو پر پڑ گئے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اس سے نرم بستر بنا لیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: «مجھے دنیا سے کیا اور دنیا کو مجھ سے کیا! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسے ہے جیسے ایک مسافر نے گرمی کے دن سفر کیا اور دوپہر کو ایک درخت کے سائے تلے کچھ دیر آرام کیا پھر چلا گیا اور اسے چھوڑ دیا۔» یہ حدیث بخاری کی شرط پر صحیح ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کی شاہد عبداللہ بن مسعود کی حدیث ہے۔ بخاری و مسلم کی شرط پر۔
