العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَمٌّ يَبِيعُ الْخَمْرَ وَكَانَ يَتَصَدَّقُ بِثَمَنِهِ فَنَهَيْتُهُ عَنْهَا فَلَمْ يَنْتَهِ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْخَمْرِ وَثَمَنِهَا فَقَالَ «هِيَ حَرَامٌ وَثَمَنُهَا حَرَامٌ» ثُمَّ قَالَ «يَا مَعْشَرَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ إِنَّهُ لَوْ كَانَ كِتَابٌ بَعْدَ كِتَابِكُمْ أَوْ نَبِيٌّ بَعْدَ نَبِيِّكُمْ لَأُنْزِلَ فِيكُمْ كَمَا أُنْزِلَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَلَكِنْ أُخِّرَ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَعَمْرِي لَهُوَ أَشَدُّ عَلَيْكُمْ» صحيح أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَمٌّ يَبِيعُ الْخَمْرَ وَكَانَ يَتَصَدَّقُ بِثَمَنِهِ فَنَهَيْتُهُ عَنْهَا فَلَمْ يَنْتَهِ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْخَمْرِ وَثَمَنِهَا فَقَالَ «هِيَ حَرَامٌ وَثَمَنُهَا حَرَامٌ» ثُمَّ قَالَ «يَا مَعْشَرَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ إِنَّهُ لَوْ كَانَ كِتَابٌ بَعْدَ كِتَابِكُمْ أَوْ نَبِيٌّ بَعْدَ نَبِيِّكُمْ لَأُنْزِلَ فِيكُمْ كَمَا أُنْزِلَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَلَكِنْ أُخِّرَ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَ��ِ وَلَعَمْرِي لَهُوَ أَشَدُّ عَلَيْكُمْ» صحيح
الترجمة الإنجليزية
Abd al-Rahman ibn Shurayh al-Khawlani narrated that he had an uncle who used to sell wine and give its price in charity. He said: I forbade him from it, but he did not stop. So I went to Madinah and met Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) and asked him about wine and its price. He said: "It is unlawful and its price is unlawful." Then he said: "O community of Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)! If there were a Book after your Book or a Prophet after your Prophet, it would have been revealed regarding you as it was revealed regarding those before you. But that matter has been deferred for you until the Day of Judgement, and by my life, that shall be more severe upon you."
الترجمة الأردية
عبد الرحمٰن بن شریح الخولانی سے روایت ہے کہ ان کے ایک چچا شراب بیچتے تھے اور اس کی قیمت صدقہ کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے انہیں منع کیا لیکن وہ نہ رکے۔ پس میں مدینہ آیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ملا اور ان سے شراب اور اس کی قیمت کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: وہ حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ پھر فرمایا: اے امت محمدیہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی کتاب ہوتی یا تمہارے نبی کے بعد کوئی نبی ہوتا تو تمہارے بارے میں بھی نازل ہوتا جیسا کہ تم سے پہلے والوں کے بارے میں نازل ہوا۔ لیکن تمہارا یہ معاملہ قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا گیا ہے اور میری جان کی قسم یہ تم پر زیادہ سخت ہوگا۔
