العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَايِنِيُّ ثَنَا شَبَابَةُ ثَنَا أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ قَالَتْ قَامَ النَّبِيُّ ﷺ مِنَ اللَّيْلِ إِلَيَّ فَخَّارَةٍ مِنْ جَانِبِ الْبَيْتِ فَبَالَ فِيهَا فَقُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا عَطْشَى فَشَرِبْتُ مِنْ فِي الْفَخَّارَةِ وَأَنَا لَا أَشْعُرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّبِيُّ ﷺ قَالَ «يَا أُمَّ أَيْمَنَ قَوْمِي إِلَى تِلْكَ الْفَخَّارَةِ فَأَهْرِيقِي مَا فِيهَا» قُلْتُ قَدْ وَاللَّهِ شَرِبْتُ مَا فِيهَا قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ «أَمَا إِنَّكِ لَا يَفْجَعُ بَطْنُكِ بَعْدَهُ أَبَدًا» سكت عنه الذهبي في التلخيص
الترجمة الإنجليزية
Ahmad ibn Kamil al-Qadi informed us, Abdullah ibn Rawh al-Mada'ini narrated to us, Shababah narrated to us, Abu Malik al-Nakha'i narrated to us from al-Aswad ibn Qays, from Nubayh al-Anazi, from Hadrat Umm Ayman (may Allah be well pleased with her) who said: The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) got up during the night to a clay pot on the side of the room and urinated in it. I got up during the night feeling thirsty and drank from the clay pot without realizing it. When the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) woke in the morning, he stated: 'O Umm Ayman, go to that clay pot and pour out what is in it.' I submitted: 'By Allah, I have already drunk what was in it.' He said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) then laughed until his molars were visible, and then stated: 'Indeed, your stomach will never be afflicted after this ever again.' Al-Dhahabi remained silent about it in al-Talkhis.
الترجمة الأردية
احمد بن کامل القاضی نے ہمیں خبر دی، عبد اللہ بن روح المدائنی نے ہم سے بیان کیا، شبابہ نے ہم سے بیان کیا، ابو مالک النخعی نے الاسود بن قیس سے، وہ نبیح العنزی سے، وہ حضرت اُمّ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رات کو گھر کے ایک کونے میں رکھے مٹی کے برتن کی طرف اٹھے اور اس میں پیشاب فرمایا۔ میں رات کو پیاس سے اٹھی اور بے خبری میں اس مٹی کے برتن سے پی لیا۔ جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 'اے اُمّ ایمن! اٹھو اور اس مٹی کے برتن میں جو ہے بہا دو۔' میں نے عرض کیا: 'اللہ کی قسم! میں نے تو جو اس میں تھا پی لیا۔' راوی کہتے ہیں: پھر سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کی داڑھیں نظر آ گئیں، پھر ارشاد فرمایا: 'بے شک اب تمہارے پیٹ کو اس کے بعد کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔' امام ذہبی نے تلخیص میں اس پر سکوت فرمایا۔
