العربية (الأصل)
أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَاقَرْحِيُّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ أَبُوعُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى «ثُمَّ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ كِنْدَةَ قُتَيْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ فِي سَنَةِ عَشْرَةٍ ثُمَّ اشْتَكَى فِي النِّصْفِ مِنْ صَفَرٍ ثُمَّ قُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ لِيَوْمَيْنِ مَضَيَا مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ وَلَمْ تَكُنٍ قَدِمَتْ عَلَيْهِ وَلَا دَخَلَ بِهَا» وَوَقَّتَ بَعْضُهُمْ وَقْتَ تَزْوِيجِهِ إِيَّاهَا فَزَعَمَ أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرٍ وَزَعَمَ آخَرُونَ أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا فِي مَرَضِهِ وَزَعَمَ آخَرُونَ أَنَّهُ أَوْصَى أَنْ يُخَيِّرَ قُتَيْلَةَ فَإِنْ شَاءَتْ فَاخْتَارَتِ النِّكَاحَ فَزُوِّجَهَا عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ بِحَضْرَمَوْتَ فَبَلَغَ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُحَرِّقَ عَلَيْهِمَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَا هِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا دَخَلَ بِهَا النَّبِيُّ ﷺ وَلَا ضَرَبَ عَلَيْهَا الْحِجَابَ وَزَعَمَ بَعْضُهُمْ أَنَّهَا ارْتَدَّتْ أَبُوعُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى «ثُمَّ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ كِنْدَةَ قُتَيْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ فِي سَنَةِ عَشْرَةٍ ثُمَّ اشْتَكَى فِي النِّصْفِ مِنْ صَفَرٍ ثُمَّ قُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ لِيَوْمَيْنِ مَضَيَا مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ وَلَمْ تَكُنٍ قَدِمَتْ عَلَيْهِ وَلَا دَخَلَ بِهَا» وَوَقَّتَ بَعْضُهُمْ وَقْتَ تَزْوِيجِهِ إِيَّاهَا فَزَعَمَ أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرٍ وَزَعَمَ آخَرُونَ أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا فِي مَرَضِهِ وَزَعَمَ آخَرُونَ أَنَّهُ أَوْصَى أَنْ يُخَيِّرَ قُتَيْلَةَ فَإِنْ شَاءَتْ فَاخْتَارَتِ النِّكَاحَ فَزُوِّجَهَا عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ بِحَضْرَمَوْتَ فَبَلَغَ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُحَرِّقَ عَلَيْهِمَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَا هِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا دَخَلَ بِهَا النَّبِيُّ ﷺ وَلَا ضَرَبَ عَلَيْهَا الْحِجَابَ وَزَعَمَ بَعْضُهُمْ أَنَّهَا ارْتَدَّتْ
الترجمة الإنجليزية
Abu Ubaydah Ma'mar ibn al-Muthanna stated: "Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) married — when the delegation of Kindah came to him — Qutaylah bint Qays, the sister of Hadrat al-Ash'ath ibn Qays (may Allah be well pleased with him), in the tenth year. Then he fell ill in the middle of Safar and passed away on Monday, two days into the month of Rabi al-Awwal. She had not yet come to him, and he did not consummate the marriage with her." Some scholars specified the time of his marriage to her, claiming he married her a month before his passing. Others claimed he married her during his final illness. Others claimed that he instructed that Qutaylah be given a choice — if she wished, she could remain [as his wife]. She chose marriage [to another], and Ikrimah ibn Abi Jahl married her in Hadramawt. When Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) heard of this, he said: "I was about to burn them both." Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) said: "She is not one of the Mothers of the Believers, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) neither consummated the marriage with her nor imposed the veil upon her." Some claimed she had apostatized.
الترجمة الأردية
ابوعبیدہ معمر بن المثنیٰ نے بیان کیا: "پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے — جب کندہ کا وفد آیا — قتیلہ بنت قیس سے نکاح فرمایا جو حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن تھیں، دسویں ہجری میں۔ پھر آپ نصف صفر میں بیمار ہوئے اور دو ربیع الاول پیر کے دن وصال فرمایا۔ وہ ابھی آپ کے پاس نہیں آئی تھیں اور نہ آپ نے رخصتی فرمائی تھی۔" بعض علماء نے نکاح کا وقت متعین کیا اور کہا کہ آپ نے وفات سے ایک ماہ قبل نکاح فرمایا۔ دوسروں نے کہا آخری بیماری میں نکاح ہوا۔ بعض نے کہا آپ نے وصیت فرمائی کہ قتیلہ کو اختیار دیا جائے۔ انہوں نے نکاح (دوسرے سے) اختیار کیا تو عکرمہ بن ابی جہل نے حضرموت میں ان سے نکاح کر لیا۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر ہوئی تو فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ دونوں پر آگ لگا دوں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: وہ اُمّہات المؤمنین میں سے نہیں، نہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے رخصتی فرمائی، نہ ان پر پردہ فرض کیا۔ بعض نے کہا وہ مرتد ہو گئی تھیں۔
