العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَرَجُلٌ آخَرُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ وَأَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ بَرْدٌ شَدِيدٌ لَمْ يَرَ مِثْلَهُ فَخَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَةَ وَلَكِنِّي وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ بَرْدًا مِثْلَ هَذَا هَلْ مَرَّ عَلَى وُجُوهِكُمْ مِثْلُهُ؟ قَالُوا لَا فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «كَيْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَصَحَابَتَهُ لَكُمْ؟» فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى بِنَا وَهُوَ جُنُبٌ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى عَمْرٍو فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ وَبِالَّذِي لَقِيَ مِنَ الْبَرْدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَالَ {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ} [النساء 29] وَلَوِ اغْتَسَلْتُ مُتُّ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى عَمْرٍو «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا عَلَّلَاهُ» بِحَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ الَّذِيعلى شرطهما
الترجمة الإنجليزية
Abu al-Abbas Muhammad ibn Ya'qub narrated to us... from Abu Qays, the freed slave of Hadrat Amr ibn al-'As (may Allah be well pleased with him), that Hadrat Amr ibn al-'As was in command of a military expedition and they were struck by severe cold the like of which he had never seen. He went out for the Fajr prayer and said: "By Allah, I had a wet dream, and had I bathed I would have died." So he performed tayammum and led his companions in the Fajr prayer. When they returned to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), they mentioned that to him. He stated: "O Amr, did you lead your companions in prayer while you were in a state of major impurity?" He submitted: "I recalled the saying of Allah Most High: 'And do not kill yourselves, indeed Allah is ever Merciful to you' [al-Nisa 4:29], so I performed tayammum and prayed." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) laughed and said nothing.
الترجمة الأردية
ابو قیس جو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن العاص ایک سریے کے امیر تھے۔ انہیں ایسی شدید سردی نے آ لیا جیسی انہوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وہ فجر کی نماز کے لیے نکلے اور فرمایا: "اللہ کی قسم! مجھے احتلام ہو گیا تھا اور اگر میں غسل کرتا تو مر جاتا۔" پس انہوں نے تیمم کیا اور اپنے ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھائی۔ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے یہ بات بتائی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "اے عمرو! کیا تم نے اپنے ساتھیوں کو جنابت کی حالت میں نماز پڑھائی؟" عرض کیا: "مجھے اللہ تعالیٰ کا فرمان یاد آیا: 'اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بہت مہربان ہے' [النساء: 29] تو میں نے تیمم کیا اور نماز پڑھی۔" حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہنس دیے اور کچھ نہ فرمایا۔
