العربية (الأصل)
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ ثَنَا أَبُو خَلَفٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ بَيْتِهِ عِنْدَ الظَّهِيرَةِ فَرَأَى أَبَا بَكْرٍ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ «مَا أَخْرَجَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ هَذِهِ السَّاعَةَ؟» قَالَ أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ «مَا أَخْرَجَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟» فَقَالَ الَّذِي أَخْرَجَكُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَتَحَدَّثُ مَعَهُمَا ثُمَّ قَالَ «هَلْ بِكُمَا مِنْ قُوَّةٍ فَتَنْطَلِقَانِ إِلَى هَذِهِ النَّخْلَةِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دُورِ الْأَنْصَارِ تُصْيبَانِ طَعَامًا وَشَرَابًا وَظِلًّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ؟» قُلْنَا نَعَمْ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَانْطَلَقَا مَعَهُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَسكت عنه الذهبي في التلخيص أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ بَيْتِهِ عِنْدَ الظَّهِيرَةِ فَرَأَى أَبَا بَكْرٍ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ «مَا أَخْرَجَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ هَذِهِ السَّاعَةَ؟» قَالَ أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ «مَا أَخْرَجَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟» فَقَالَ الَّذِي أَخْرَجَكُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَتَحَدَّثُ مَعَهُمَا ثُمَّ قَالَ «هَلْ بِكُمَا مِنْ قُوَّةٍ فَتَنْطَلِقَانِ إِلَى هَذِهِ النَّخْلَةِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دُورِ الْأَنْصَارِ تُصْيبَانِ طَعَامًا وَشَرَابًا وَظِلًّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ؟» قُلْنَا نَعَمْ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَانْطَلَقَا مَعَهُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَسكت عنه الذهبي في التلخيص
الترجمة الإنجليزية
Muhammad ibn Yazid al-Adl informed me, Ibrahim ibn Abi Talib narrated to us, Hilal ibn Bishr narrated to us, Abu Khalaf Abdullah ibn Isa narrated to us from Yunus ibn Ubayd from Ikrima from Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) who said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came out of his house one day at noon and saw Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) sitting in the mosque. He stated: "What brought you out at this hour, O Abu Bakr?" He said: What brought you out, O Messenger of Allah. Then Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) came, and he stated: "What brought you out, O Ibn al-Khattab?" He said: What brought both of you out, O Messenger of Allah. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sat conversing with them, then stated: "Do you have the strength to go to this palm garden?" - and he gestured with his hand toward the homes of the Ansar - "to get some food, drink, and shade, if Allah wills?" We said: Yes. So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) set off and they went with him, and he mentioned the rest of the hadith.
الترجمة الأردية
محمد بن یزید عدل نے مجھے خبر دی، ابراہیم بن ابی طالب نے ہمیں بیان کیا، ہلال بن بشر نے ہمیں بیان کیا، ابو خلف عبد اللہ بن عیسیٰ نے یونس بن عبید سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک دن دوپہر کے وقت اپنے گھر سے نکلے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسجد میں بیٹھے دیکھا۔ ارشاد فرمایا: «اے ابوبکر! اس وقت تمہیں کس چیز نے نکالا؟» عرض کیا: اسی نے نکالا جس نے آپ کو نکالا ہے، یا رسول اللہ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو ارشاد فرمایا: «اے ابن الخطاب! تمہیں کس چیز نے نکالا؟» عرض کیا: اسی نے جس نے آپ دونوں کو نکالا، یا رسول اللہ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر ان سے باتیں فرمانے لگے، پھر ارشاد فرمایا: «کیا تم میں اتنی طاقت ہے کہ اس کھجور کے باغ تک چلو» - اور آپ نے ہاتھ سے انصار کے گھروں کی طرف اشارہ فرمایا - «وہاں کھانا، پینا اور سایہ ملے گا، ان شاء اللہ؟» ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے اور وہ دونوں آپ کے ساتھ چلے، اور باقی حدیث ذکر کی۔
