العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ أَنَا عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنِي رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ تَجَمَّعَ النَّاسُ عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ فَأَقْبَلْتُ إِلَيْهِ فَنَظَرْتُ إِلَى قِطْعَةٍ مِنْ دِرْعِهِ قَدِ انْقَطَعَتْ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ قَالَ فَأَطْعَنْتُهُ بِالسَّيْفِ فِيهَا طَعْنَةً فَقَتَلْتُهُ وَرُمِيتُ بِسَهْمٍ يَوْمَ بَدْرٍ فَفَقَأَتْ عَيْنِي «فَبَصَقَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَدَعَا لِي فَمَا آذَانِي مِنْهَا شَيْءٌ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ عبد العزيز بن عمران ضعفوه فَأَطْعَنْتُهُ بِالسَّيْفِ فِيهَا طَعْنَةً فَقَتَلْتُهُ وَرُمِيتُ بِسَهْمٍ يَوْمَ بَدْرٍ فَفَقَأَتْ عَيْنِي «فَبَصَقَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَدَعَا لِي فَمَا آذَانِي مِنْهَا شَيْءٌ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ عبد العزيز بن عمران ضعفوه
الترجمة الإنجليزية
Narrated from Hadrat Rifa'ah ibn Rafi' ibn Malik (may Allah be well pleased with him), from his father, who said: On the Day of Badr, the people gathered around Umayyah ibn Khalaf. I approached him and noticed that a piece of his armor had come loose from under his armpit. I thrust my sword into that gap and killed him. I was also struck by an arrow on the Day of Badr which blinded my eye. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) applied his blessed saliva on it and prayed for me, and it never troubled me again. This hadith has an authentic chain, though neither Bukhari nor Muslim recorded it.
الترجمة الأردية
حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، ان کے والد سے روایت ہے کہ غزوہ بدر کے دن لوگ امیہ بن خلف پر جمع ہو گئے۔ میں اس کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ اس کی زرہ کا ایک ٹکڑا اس کی بغل کے نیچے سے ٹوٹ گیا ہے۔ میں نے اس جگہ تلوار کا وار کیا اور اسے قتل کر دیا۔ بدر کے دن مجھے ایک تیر لگا جس سے میری آنکھ جاتی رہی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب مبارک لگایا اور میرے لیے دعا فرمائی تو پھر مجھے اس سے کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر بخاری و مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔
