العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا جَرِيرٌ عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ إِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ مِنْهُ جِدٌّ وَلَا هَزْلٌ وَلَا أَنْ يَعِدَ الرَّجُلُ ابْنَهُ ثُمَّ لَا يُنْجِزُ لَهُ إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ إِنَّهُ يُقَالُ لِلصَّادِقِ صَدَقَ وَبَرَّ وَيُقَالُ لِلْكَاذِبِ كَذَبَ وَفَجَرَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صَدِيقًا أَوْ يَكْذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا «» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَإِنَّمَا تَوَاتَرَتِ الرِّوَايَاتُ بِتَوْفِيقِ أَكْثَرِ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ فَإِنْ صَحَّ سَنَدُهُ فَإِنَّهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا على شرطهما
الترجمة الإنجليزية
Abu Bakr ibn Ishaq narrated to us... from Hadrat Abdullah (ibn Mas'ud) (may Allah be well pleased with him) who elevated the hadith to the Prophet (blessings and peace of Allah be upon him): "Lying is not befitting in seriousness or in jest, nor that a man promises his son something then does not fulfill it. Indeed, truthfulness leads to righteousness and righteousness leads to Paradise. And indeed, lying leads to wickedness and wickedness leads to the Fire. It is said about the truthful one: He spoke truth and was righteous. And it is said about the liar: He lied and was wicked. Indeed, a man continues to speak the truth until he is written with Allah as truthful (Siddiq), or continues to lie until he is written with Allah as a liar." This hadith has an authentic chain according to the conditions of the two Shaykhs.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ (ابن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے: "جھوٹ نہ سنجیدگی میں مناسب ہے نہ مذاق میں، اور نہ یہ کہ آدمی اپنے بیٹے سے وعدہ کرے پھر اسے پورا نہ کرے۔ بے شک سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اور بے شک جھوٹ فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ سچے کے بارے میں کہا جاتا ہے: اس نے سچ کہا اور نیکی کی۔ اور جھوٹے کے بارے میں کہا جاتا ہے: اس نے جھوٹ بولا اور فجور کیا۔ بے شک آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے، یا جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔" یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے۔
