العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ ثنا أَبِي ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَامِعٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْقَطَّانِ الْخُزَاعِيِّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {الَّذِينَ يَكْنِزُونَ} [التوبة 34] الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَقَالُوا مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُنَا أَنْ يَتْرُكَ مَالًا لِوَلَدِهِ يَبْقَى بَعْدَهُ فَقَالَ عُمَرُ أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ قَالَ فَانْطَلَقُوا وَانْطَلَقَ عُمَرُ وَاتَّبَعَهُ ثَوْبَانُ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ عُمَرُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ كَبُرَ عَلَى أَصْحَابِكَ هَذِهِ الْآيَةُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ «إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَفْرِضِ الزَّكَاةَ إِلَّا لِيُطَيِّبَ بِهَا مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ فِي أَمْوَالٍ تَبْقَى بَعْدَكُمْ» قَالَ فَكَبَّرَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ «أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُهُ الْمَرْءُ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrated: When the verse was revealed: 'Those who hoard gold and silver and do not spend them in the way of Allah' (al-Tawbah: 34), this weighed heavily upon the Muslims, and they said: None of us can leave behind wealth for his children after him. So Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: I shall relieve you of this. He went, and Thawban followed him, and they came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). Hadrat Umar submitted: O Prophet of Allah, this verse has weighed heavily upon your Companions. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Indeed, Allah did not prescribe zakah except to purify what remains of your wealth, and He only prescribed inheritance for wealth that remains after you." Hadrat Umar then exclaimed 'Allahu Akbar.' Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Shall I not inform you of the best treasure a man can hoard? A righteous wife — when he looks at her, she pleases him; when he commands her, she obeys him; and when he is absent from her, she safeguards him."
الترجمة الأردية
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: 'جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے' (التوبۃ: 34) تو یہ مسلمانوں پر بہت بھاری گزری اور انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی اپنی اولاد کے لیے مال چھوڑنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے فارغ کرتا ہوں۔ پھر وہ چلے اور ان کے ساتھ ثوبان بھی چلے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا نبی اللہ! یہ آیت آپ کے صحابہ پر بہت بھاری گزری ہے۔ نبی اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ نے زکوٰۃ صرف اس لیے فرض کی ہے تاکہ تمہارے بقیہ اموال کو پاک کرے، اور وراثت صرف ان اموال میں مقرر فرمائی ہے جو تمہارے بعد رہ جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ اکبر کہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ آدمی کا بہترین خزانہ کیا ہے؟ نیک بیوی — جب وہ اسے دیکھے تو خوش کر دے، جب حکم دے تو اطاعت کرے، اور جب غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے۔
