العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ قَالَا ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ثنا طَلْحَةُ الْيَامِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَقَالَ «لَئِنْ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ أَعْتِقِ النَّسَمَ وَفُكَّ الرَّقَبَةَ» قَالَ أَوَلَيْسَا وَاحِدًا؟ قَالَ «فَإِنَّ عِتْقَ النَّسَمَةِ أَنْ تُفْرِدَ بِعِتْقِهَا وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا وَالْمِنْحَةُ الْمَوْكُوفَةُ وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح
الترجمة الإنجليزية
Hadrat al-Bara' ibn 'Azib (may Allah be well pleased with him) narrated: A Bedouin came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: 'O Messenger of Allah, teach me something that will admit me into Paradise.' He stated: 'Your speech was brief but the question was broad. Free a soul and ransom a slave.' He asked: 'Are they not the same thing?' He stated: 'Freeing a soul means to free one on your own entirely, and ransoming a slave means to contribute toward the price. Also, give a lending-animal whose milk flows freely, and show kindness to your wrongful relative. If you cannot do that, then feed the hungry, give drink to the thirsty, enjoin what is good, and forbid what is evil. If you cannot do that, then restrain your tongue except from good.' This hadith has a sound chain of narration, though they did not record it.
الترجمة الأردية
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی بات بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کرے۔ ارشاد فرمایا: تم نے بات مختصر کی لیکن سوال بڑا کیا۔ غلام آزاد کرو اور گردن چھڑاؤ۔ عرض کیا: کیا یہ دونوں ایک نہیں ہیں؟ ارشاد فرمایا: غلام آزاد کرنا یہ ہے کہ تم اکیلے آزاد کرو، اور گردن چھڑانا یہ ہے کہ قیمت میں مدد کرو۔ اور دودھ دینے والا جانور عطا کرو، اور ظالم رشتے دار سے حُسنِ سلوک کرو۔ اگر یہ نہ کر سکو تو بھوکے کو کھلاؤ، پیاسے کو پلاؤ، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔ اور اگر یہ بھی نہ کر سکو تو اپنی زبان کو خیر کے سوا روکے رکھو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔
