العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَكيِمِيُّ قَالَا ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ثنا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ الطَّائِفِيُّ ثنا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْس��كِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَأْذَنَ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَهُوَ كَارِهٌ وَلَا تَخْرُجَ وَهُوَ كَارِهٌ وَلَا تُطِيعَ فِيهِ أَحَدًا وَلَا تَخْشَنَ بِصَدْرِهِ وَلَا تَعْتَزِلَ فِرَاشَهُ وَلَا تَضْرِبَهُ فَإِنْ كَانَ هُوَ أَظْلَمَ فَلْتَأْتِهِ حَتَّى تُرْضِيَهُ فَإِنْ كَانَ هُوَ قَبِلَ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَقَبِلَ اللَّهُ عُذْرَهَا وَأَفْلَحَ حُجَّتَهَا وَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَإِنْ هُوَ أَبِي بِرِضَاهَا عَنْهَا فَقَدْ أَبَلَغَتْ عِنْدَ اللَّهِ عُذْرَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بل منكر وإسناده منقطع
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Mu'adh ibn Jabal (may Allah be well pleased with him) narrated from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) who stated: 'It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to permit anyone into her husband's house while he dislikes it, nor to go out while he dislikes it, nor to obey anyone against him, nor to be harsh toward him, nor to refuse to share his bed, nor to strike him. If he is the one who has wronged, let her go to him until she pleases him. If he accepts, then well and good, and Allah has accepted her excuse and vindicated her argument, and there is no sin upon her. And if he refuses to be pleased with her, then she has conveyed her excuse before Allah.' This hadith has an authentic chain, though the two Shaykhs did not record it.
الترجمة الأردية
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں کسی کو اجازت دے جبکہ شوہر ناپسند کرے، اور نہ باہر نکلے جبکہ وہ ناپسند کرے، اور نہ اس کے خلاف کسی کی اطاعت کرے، اور نہ اس سے سختی سے پیش آئے، اور نہ اس کا بستر چھوڑے، اور نہ اسے مارے۔ اگر شوہر نے زیادتی کی ہو تو وہ اس کے پاس آئے یہاں تک کہ اسے راضی کرے۔ اگر وہ مان جائے تو بہت اچھا، اللہ نے اس کا عذر قبول کیا اور اس کی دلیل کامیاب ہوئی اور اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اور اگر وہ راضی ہونے سے انکار کرے تو اس نے اللہ کے نزدیک اپنا عذر پہنچا دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔
