العربية (الأصل)
حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الضُّبَعِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» قَالَ ابْنُ عَسْكَرٍ فَقَالَ لِي قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ جَاءَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثْتُهُ بِهِ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَدِ اسْتَرَحْنَا مِنْ خِلَافِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ الْحَاكِمُ «لَسْتُ أَعْلَمُ بَيْنَ أَئِمَّةِ هَذَا الْعِلْمِ خِلَافًا عَلَى عَدَالَةِ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ وَإِنَّ سَمَاعَهُ مِنْ أَبِي بُرْدَةَ مَعَ أَبِيهِ صَحِيحٌ ثُمَّ لَمْ يَخْتَلِفْ عَلَى يُونُسَ فِي وَصْلِ هَذَا الْحَدِيثِ فَفِيهِ الدَّلِيلُ الْوَاضِحُ أَنَّ الْخِلَافَ الَّذِي وَقَعَ عَلَى أَبِيهِ فِيهِ مِنْ جِهَةِ أَصْحَابِهِ لَا مِنْ جِهَةِ أَبِي إِسْحَاقَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ» وَمِمَّنْ وَصَلَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ نَفْسِهِ وَأَبُو حُصَيْنٍ عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Musa (may Allah be well pleased with him) narrated from the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) who stated: 'There is no marriage without a guardian.' Ibn Askar said: Qabisa ibn Uqba told me that Ali ibn al-Madini came to him and asked him about this hadith. He narrated it to him, and Ali ibn al-Madini said: 'We are relieved from the disagreement regarding Abu Ishaq.' Al-Hakim said: 'I do not know of any disagreement among the scholars of this science regarding the uprightness of Yunus ibn Abi Ishaq, and that his hearing from Abu Burda alongside his father is authentic. Then there is no disagreement about Yunus in connecting this hadith, which is clear proof that the disagreement that occurred about his father was from the side of his transmitters, not from Abu Ishaq himself.' Among those who connected this hadith from Abu Burda himself is Abu Husayn Uthman ibn Asim al-Thaqafi.
الترجمة الأردية
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں۔ ابن عسکر نے کہا: قبیصہ بن عقبہ نے مجھے بتایا کہ علی بن المدینی میرے پاس آئے اور مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا۔ میں نے انہیں یہ حدیث سنائی تو علی بن المدینی نے کہا: ابو اسحاق کے اختلاف سے ہمیں راحت مل گئی۔ حاکم نے فرمایا: مجھے اس علم کے ائمہ میں یونس بن ابی اسحاق کی عدالت پر کوئی اختلاف معلوم نہیں اور یہ کہ ان کا ابو بردہ سے اپنے والد کے ساتھ سماع صحیح ہے۔ پھر یونس سے اس حدیث کو موصول کرنے میں کوئی اختلاف نہیں، جو واضح دلیل ہے کہ ان کے والد کے بارے میں جو اختلاف واقع ہوا وہ ان کے شاگردوں کی جانب سے تھا نہ کہ ابو اسحاق کی جانب سے۔ اور ابو بردہ سے ابو اسحاق کے علاوہ جنہوں نے اس حدیث کو موصول کیا ان میں ابو حصین عثمان بن عاصم ثقفی ہیں۔
