العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى ثَلَاثًا فَيَرْفَعُ النَّاسُ مَا أَصَابُوا ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فُيُخَمَّسُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ وَقَدْ قُسِمَتِ الْغَنِيمَةُ فَقَالَ لَهُ «هَلْ سَمِعْتَ بِلَالًا يُنَادِي ثَلَاثًا؟» قَالَ نَعَمْ قَالَ «فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ بِهِ؟» فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ «كُنْ أَنْتَ الَّذِي تُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abdullah ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) narrated: When the Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) obtained war spoils, he would order Bilal to make three announcements. The people would bring what they had obtained, then he would take the fifth and distribute it. A man came with a halter made of hair after the spoils had been distributed. He stated: 'Did you hear Bilal make three announcements?' He said: 'Yes.' He stated: 'Then what prevented you from bringing it?' The man offered an excuse. He stated: 'You yourself bring it on the Day of Resurrection, for I shall never accept it from you.' This hadith has a sound chain of narration, though they did not record it.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب غنیمت پاتے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم فرماتے کہ تین بار اعلان کریں۔ لوگ جو کچھ پاتے لے کر آتے، پھر آپ خمس لیتے اور تقسیم فرماتے۔ ایک شخص بالوں کی مہار لے کر آیا جبکہ غنیمت تقسیم ہو چکی تھی۔ آپ نے فرمایا: کیا تم نے بلال کی تین بار پکار سنی تھی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: پھر تمہیں اسے لانے سے کس چیز نے روکا؟ اس نے معذرت کی۔ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن تم خود اسے لے کر آنا، میں ہرگز تمہاری طرف سے اسے قبول نہیں کروں گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔
