العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سُفْيَانَ الطَّائِيُّ بِحِمْصَ ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَ��َدْرَكَهُ اللَّيْلُ قَالَ «يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شِرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا خَلَقَ فِيكِ وَمِنْ شَرِّ مَا دَبَّ عَلَيْكِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح
الترجمة الإنجليزية
Narrated from Hadrat 'Abdullah ibn 'Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with them both), he said: When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went on an expedition or traveled and night overtook him, he would say: 'O earth, my Lord and your Lord is Allah. I seek refuge in Allah from your evil, the evil of what is in you, the evil of what has been created in you, and the evil of what crawls upon you. I seek refuge in Allah from the evil of every lion, every serpent, every snake, and every scorpion, and from the evil of the inhabitants of the land, and from the evil of a parent and its offspring.' This hadith has a sound chain and they did not record it.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب غزوے یا سفر میں ہوتے اور رات آ جاتی تو فرماتے: 'اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔ میں تیرے شر سے، تیرے اندر جو کچھ ہے اس کے شر سے، جو کچھ تجھ میں پیدا کیا گیا اس کے شر سے، اور جو تجھ پر رینگتا ہے اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ میں ہر شیر، ہر سانپ، ہر اژدھے اور ہر بچھو کے شر سے، اور اس بستی کے رہنے والوں کے شر سے، اور والد اور جو اولاد اس نے جنی اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔' یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔
