العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ قَالَ وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِحَاجَتِهِ هَدَفًا أَوْ حَايِشًا نَخْلٍ فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا جَمَلٌ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ ﷺ حَنَّ إِلَيْهِ وَزَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ ﷺ فَمَسَحَ ذَفَرَتَهُ فَسَكَنَ فَقَالَ مَنْ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ؟ قَالَ فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ هُوَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ «أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَ اللَّهُ إِيَّاهَا فَإِنَّهُ شَكَا لِي أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ»
الترجمة الإنجليزية
Narrated from Hadrat 'Abdullah ibn Ja'far (may Allah be well pleased with him), he said: One day the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) seated me behind him and confided to me a matter that I shall not disclose to anyone. He said: The most beloved thing for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) to use as a screen for his need was a mound or a cluster of palm trees. He entered an orchard belonging to a man from the Ansar, and there was a camel. When the camel saw the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), it moaned and its eyes shed tears. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) went to it and rubbed behind its ears, and it became calm. He then asked: 'Who is the owner of this camel? Whose camel is this?' A young man from the Ansar came and said: 'It is mine, O Messenger of Allah.' He stated: 'Do you not fear Allah regarding this animal that Allah has given you ownership of? For it has complained to me that you starve it and overwork it.'
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سوار کیا اور مجھ سے ایک بات خفیہ فرمائی جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو قضائے حاجت کے لیے پردے میں سب سے محبوب ٹیلہ یا کھجوروں کا جھنڈ تھا۔ آپ ایک انصاری شخص کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اونٹ تھا۔ جب اس نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو کراہا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس آئے اور اس کے کان کے پیچھے ہاتھ پھیرا تو وہ پرسکون ہو گیا۔ پھر آپ نے پوچھا: 'اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟' انصار کا ایک نوجوان آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ میرا ہے۔ آپ نے فرمایا: 'کیا تو اس جانور کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتا جسے اللہ نے تیری ملکیت میں دیا ہے؟ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تو اسے بھوکا رکھتا ہے اور تھکاتا ہے۔'
