العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْفَقِيهُ بِمَكَّةَ ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ سَعْنَةَ كَانَ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ يَتَقَاضَاهُ فَجَبَذَ ثَوْبَهُ عَنْ مَنْكِبِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَصْحَابُ مَطْلٍ وَإِنِّي بِكُمْ لَعَارِفٌ قَالَ فَانْتَهَرَهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «يَا عُمَرُ أَنَا وَهُوَ كُنَّا إِلَى غَيْرِ هَذَا مِنْكَ أَحْوَجَ أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الْقَضَاءِ وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ التَّقَاضِي انْطَلِقْ يَا عُمَرُ أَوْفِهِ حَقَّهُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ مِنْ أَجَلِهِ ثَلَاثٌ فَزِدْهُ ثَلَاثِينَ صَاعًا لِتَزْوِيرِكَ عَلَيْهِ»
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Zaid ibn Sa'na, who was one of the Jewish rabbis, came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) to collect a debt. He seized the garment from his right shoulder and said: 'You, O children of Abd al-Muttalib, are people who delay payment, and I know you well.' Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) rebuked him, but the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'O Umar, I and he were in need of something other than this from you — that you advise me to pay well and advise him to seek payment well. Go, O Umar, give him his due. Indeed, three days remain of his term, so give him thirty extra measures for your having been harsh to him.'
الترجمة الأردية
روایت ہے کہ زید بن سعنہ — جو یہودی علماء میں سے تھے — نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قرض وصول کرنے آئے۔ اُنہوں نے آپ کی چادر دائیں کندھے سے کھینچ لی اور کہا: اے بنی عبد المطلب! تم لوگ ٹالنے والے ہو اور مجھے تمہاری اچھی پہچان ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُسے ڈانٹا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اے عمر! مجھے اور اُسے تمہاری طرف سے اس کے بجائے کسی اور چیز کی ضرورت تھی — کہ تم مجھے اچھی ادائیگی کا مشورہ دیتے اور اُسے اچھی وصولی کا۔ جاؤ اے عمر! اُسے اُس کا حق پورا دو۔ اُس کی مدت میں ابھی تین دن باقی ہیں، تو اُسے تیس صاع اضافی دو تمہاری سختی کے بدلے۔»
