العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمُزَكِّي بِمَرْوَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى قَالَا ثنا الْعَقَبِيُّ فِيمَا قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى السَّمَرْقَنْدِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ قَالَا ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ سَمِعْتُهَا تَقُولُ «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَلَبِسَ ثِيَابَهُ ثُمَّ خَرَجَ» فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي بَرِيرَةَ أَنْ تَتْبَعَهُ فَتَنْظُرَ أَيْنَ يَذْهَبُ فَتَبِعَتْهُ حَتَّى «جَاءَ الْبَقِيعَ فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَاجِعًا» فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَخْبَرَتْنِي قَالَتْ فَلَمْ أَذْكُرْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَتَّى أَصْبَحْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ «إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ»
الترجمة الإنجليزية
Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood up, put on his clothes, and went out. I ordered my servant Barirah to follow him and see where he goes. She followed him until he came to al-Baqi cemetery. He stood at the nearest part of it for as long as Allah willed, then turned back. Barirah returned before him. Aisha said: She informed me, and I did not mention anything about it to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) until morning. Then I mentioned it to him, and he stated: 'I was sent to the people of al-Baqi to pray for them.'
الترجمة الأردية
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، کپڑے پہنے اور باہر تشریف لے گئے۔ میں نے اپنی لونڈی بریرہ کو حکم دیا کہ ان کے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتے ہیں۔ وہ ان کے پیچھے گئی یہاں تک کہ آپ بقیع میں تشریف لائے اور اس کے قریبی حصے میں اتنی دیر کھڑے رہے جتنی اللہ نے چاہا، پھر واپس لوٹے۔ بریرہ ان سے پہلے پہنچ گئی۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: اس نے مجھے خبر دی۔ میں نے صبح تک حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں کچھ ذکر نہیں کیا۔ پھر صبح میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اہلِ بقیع کے پاس بھیجا گیا تھا تاکہ ان کے لیے دعا کروں۔
