العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ أَبِي يَحْيَى الْكَلَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلَانِ فَأَخَذَا بِضَبْعَيَّ فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا فَقَالَا لِي اصْعَدْ فَقُلْتُ «إِنِّي لَا أُطِيقُهُ» فَقَالَا إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ فَصَعِدْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ إِذَا أَنَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ فَقُلْتُ «مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟» قَالُوا هَذَا عَوَىُ أَهْلِ النَّارِ ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ مُشَقَّقَةُ أَشْدَاقُهُمْ تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا قَالَ قُلْتُ «مَنْ هَؤُلَاءِ؟» قَالَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Umamah al-Bahili (may Allah be well pleased with him) narrated: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: 'While I was sleeping, two men came to me and took hold of my upper arms. They brought me to a rugged mountain and said: Climb. I said: I cannot manage it. They said: We shall make it easy for you. So I climbed until I was at the middle of the mountain, where I heard terrible voices. I said: What are these voices? They said: This is the howling of the people of the Fire. Then I was taken further and found people hanging by their hamstrings, their cheeks split open and dripping blood. I said: Who are these? They said: These are those who broke their fast before it was time to break it.' This is an authentic hadith according to the conditions of Muslim, though neither of them narrated it.
الترجمة الأردية
حضرت ابو اُمامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا: میں نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا: میں سو رہا تھا کہ دو شخص آئے اور میرے بازو پکڑ لیے۔ مجھے ایک اونچے ناہموار پہاڑ کے پاس لائے اور کہا: چڑھو۔ میں نے کہا: مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے آسان کر دیں گے۔ پس میں چڑھا یہاں تک کہ جب پہاڑ کے بیچ میں پہنچا تو مجھے شدید آوازیں سنائی دیں۔ میں نے پوچھا: یہ کیا آوازیں ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ دوزخیوں کا چیخنا ہے۔ پھر مجھے آگے لے جایا گیا تو میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو اپنی ایڑیوں سے لٹکائے ہوئے تھے، ان کے جبڑے چیرے ہوئے تھے اور ان سے خون بہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے روزہ کھول دیتے تھے۔ یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے مگر دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
